گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے لاہور میں شیعہ مسلمانوں کے جلوس پر خود کش حملہ کی ذمہ داری وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناءاللہ پر عائد کی ہے۔ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کا وزیرِ اعلی شدت پسندوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے گا اور وزیر قانون اسی کالعدم تنظیموں کے جلوس میں سرعام پھرے گا جس میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے جاتے ہیں تو پھر کس پولیس اہلکار کی جرات ہوگی کہ وہ شدت پسندوں پر ہاتھ ڈالے۔لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق گورنر نے وزیر اعلی پنجاب کے چند مہینے پرانے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہ شدت پسندوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پنجاب پر حملے نہ کریں اور کہا کہ انہیں یہ سن کر شرم آتی ہے کہ وزیر اعلی نے طالبان سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ’آپ کی اور ہماری سوچ ایک ہے‘۔گورنر نے کہا شدت پسندوں کو شہباز شریف یا نواز شریف نے نہیں پکڑنا بلکہ کانسٹیبل نے پکڑنا ہے جب وہ یہ دیکھے گا کہ وزیر اعلی معافیاں مانگتا ہے اور وزیرقانون ان کے جلوسوں میں شرکت کرتا ہے تو وہ کس طرح شدت پسندوں کو پکڑ سکے گا۔گورنر نے کہا کہ سنی بریلیوں اور شیعہ مسلک کے افراد نے بارہا مطالبہ کیا کہ حکومت پنجاب کالعدم سپاہ صحابہ کی حمایت کرنا چھوڑ دے لیکن وہ باز نہیں آتے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر قانون ایسے جلوس میں شرکت کر کے، جہاں ایک مسلک کے لوگوں کے کافر ہونے کےنعرے لگائے جائیں،کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا حکومت پنجاب کی غلط پالیسی کی وجہ سے شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔گورنر نے کہا کہ جو شدت پسند بے گناہ افراد معصوم بچوں اور عورتوں کو بے دردی سے قتل کر رہے ہیں ان سے کسی طرح کی بات کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا انہیں ختم کرنا ہوگا۔سلمان تاثیر نے کہا کہ جس صوبے کا پراسکیوٹر جنرل خود ایک مفرور ملزم ہو وہ کیا پراسیکیویشن کے محمکے کو چلائے گا؟ ’پراسکیویشن کے محکمہ کا یہ حال ہے کہ جس نے مقدمہ کی پیروی کرنی ہے وہ پراسیکیوٹر جائے وقوعہ تک پر نہیں جاتا۔ کتنے ہی خطرناک مجرم پکڑے گئے لیکن دو تین پیشیوں پر چھوٹ گئے کیونکہ پراسیکیوٹر مقدمہ ہی نہیں لڑسکاہے۔
4 ستمبر 2010 - 19:30
News ID: 202493
گورنر پنجاب نے کہا کہ بے گناہوں کا قتل کرنے والوں سے بات کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا